Sunday, 23 June 2013

shab barat ki raat

یہ مہینہ نہیات مبارک ہے باز مفسرریں فرماتے ہیں کے کے لیلیٰ تل مبرک سے مرد شب برات ہے اور بڑی فضللیت اسس کی یہ ہے کے پرودگار نے اسس رات کو مبارک فرمایا ہے  حدیث میں ےیہ ہے کے شب برات کی بزرگی کرو یہ رات الله پاک کے نزدیک بری بزرگ ہے اور اسس رات کی ایک بزرگی یہ ہے کے سب کام تکسیم ہوتے ہیں اسس سے یہ مرد ہے کے سرے برس آیندہ کی ہر شکسس کی موت وو روزی وگرا نیک  اور بعد کام جو ہونے والرے ہیں لکھ کر ملکہ کو ان کی چٹھی ملل جاتی ہے برات کے معائنے چٹھی کے ہیں جو کسی کام کے لئے کسی کو دیتے ہیں.اسس لئے اسس کا نام شب برات ھویا اور اسس رات میں جہاں تک ہو نیک کام کرے قرآن شریف اور استگفار اور درود  اور نوافل وگرا پڑتے پڑتے تعام کریں اور بعد اور بدعات شفینا سے باز رہے   اسسس رات کے نوافل کا بیییاں کرتا ہوں مقصود لقدمین میں ہے کے جو کوئی  بعد مگرب کے شب برات کو ٢٠ بیس رکتیں  پرہے اور ہر راکٹ اور ہر رکعت میں بعد صورت ے فاتحہ کے دس ١٠ بار صورت  ے  اخلاص  پرہے اللہ تللہ اس کے نامہ عمل ١٠ ہزار نکیاں لکھ تا ہے افان کتاب کناز البباد میں لکھا ہے جو کوئی داہن   میں   سلیے  سرمہ  اور بائے انکھا  میں دو سلئیے  سرمے  کی لگوای تعام سال آنکھ  درد نہ کرے اور عبادات پر سستی نہ کریں اور نظر تیز ہو جائے گی